Qahtur rejaal ke is daur me oustaade mohtaram Aayatullah Zanjaani ki wafaat bahot bada saaneha hai
×

قحط الرجال کے اس دور میں استاد محترم آیت اللہ زنجانی کی وفات بہت بڑا سانحہ ہے

roman urdu me padhne ke liae click here


باسم الحی الذی لایموت
یا صاحب الزمان ادرکنا

قحط الرجال کے اس دور میں استاد محترم آیت اللہ زنجانی کی وفات بہت بڑا سانحہ ہے

Ayatullah Zanjani image

اہل علم اور مراجع کرام کا وجود باعث رحمت و سعادت ہے، ان کے ہونے میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے اور ان کا یہاں سے چلے جانا جہالت کے علاوہ جاہلوں کو سردار بنا لینے کا ذریعہ ہے

جوں جوں پختہ دماغ علماء اور احکام اسلام کے دقائق و مواقع کو جاننے والے اس دنیا سے جا رہے ہیں تو معاشرے میں جہالت کی بھی کثرت ہو رہی ہے اور سطحی لوگ و مدعیان علم، محض تقلید جامد کی تاریکی میں گرفتار ہو رہے ہیں اور اپنی غلط باتوں سے خود گمراہ ہو رہے ہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں

آیت اللہ العظمی سید موسیٰ شبیری زنجانی (نور اللہ مرقدہ) جیسے عظیم عالم اور نابغۂ روزگار و عصر حاضر کی منفرد و ممتاز شخصیت کا دنیا سے اٹھ جانا و انتقال یقینا ناقابل تلافی نقصان ہے

آیت اللہ زنجانی بلند پایہ ماہر علم رجال تھے، علم رجال اپنے تنوع کے اعتبار سے نہایت وسیع علم ہے، اس کے باوجود علم رجال پر ان کو بڑا تبحر حاصل تھا

آیت اللہ زنجانی (رضوان اللہ علیہ) جس طرح علم رجال میں مہارت رکھتے تھے اسی طرح علم فقہ، فن حدیث و غیرہ میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے

آپ پہلے مرکز انقلاب مدرسۂ فیضیہ میں درس خارج دیتے تھے، حقیر اس وقت اسی مدرسہ میں رہتا تھا اور آپ کے درس میں بھی شرکت کرتا تھا، اس وقت میرے درس خارج کا آغاز ہوا تھا

آپ کے درس میں موجودہ رہبر، امام خمینی کے پوتے اور نواسے اور دوسرے آقازادگان شرکت کرتے تھے اسی وجہ سے آپ کا درس آقازادوں کے درس سے مشہور تھا

جب طلبا کی کثرت ہوتی چلی گئی تو یہ درس حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا (قم) کے جوار میں واقع مسجد اعظم کے دارالتلاوۃ منتقل ہو گیا
دینی طالب علم اور عوام کی تشنگی اور اشکالات دور کرنے کے لئے مغرب سے تقریبا ایک گھنٹہ پہلے دوستانہ ماحول میں علمی نشست رکھتے تھے

یہ نشست جہاں علماء، طلبا کے لئے انتہائی پر مغز معلومات، قیمتی تجربات، با مقصد لطائف، سبق آموز واقعات، مشفقانہ و پدرانہ نصائح، تاریخی حقائق پر مشتمل ہوتی تھی وہیں ایک عام انسان کے لئے بھی بہت مفید ہوتی تھی

آپ کے خدمات کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں

  1. تدریس
  2. تصنیف
  3. مدرسۂ فیضیہ میں نماز ظہر و عصر اور حرم حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا) میں نماز صبح و مغرب و عشاء کی امامت

تدریسی خدمات اور امامت ایک بڑے عرصہ پر محیط ہے

ہزاروں طالبان علوم اہل بیت (علیہم السلام) کو علم کے جام پلا کر سرشار کرنا اور سادگی، عاجزی و مخلصی آپ کا نمایاں وصف ہے

آپ صرف ایک مرجع تقلید نہیں تھے بلکے مرجع تحقیق بھی تھے

افسوس صد افسوس وہ زنجانی جس نے دنیا کو علم کی روشنی عطا کی اب ہمارے درمیان نہیں مگر ان کے علمی فیوضات ہمیشہ زندہ رہیں گے

مومنین، مومنات اور علماء، فقہا کے جم غفیر نے بہتی آنکھوں اور عزا عزا است امروزآیت حق زنجانی پیش خدا است امروز ( آج عزا کا دن ہے - خدا کی نشانی زنجانی آج خدا کے پاس ہے ) کے نعروں کے ساتھ جس حرم میں برسوں نماز پڑھائی اسی حرم میں آج 11 ربیع الثانی 1448 بمطابق 23/9/2026 ان کی نماز پڑھی اور وہیں سپرد خاک کر دیا گیا

ہم اس انتقال پر ملال اور ناقابل تلافی نقصان پر ولی عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف، علماء، فقہائے کرام، اساتید، مرحوم کے شاگردوں، مقلدین، عقیدت مندوں اور اہل خانہ کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں اور خدا سے دعا گو ہیں کہ وہ اس محترم مرجع کی پاکیزہ روح کو ان کے پاک اجداد (معصومین علیہم السلام) کے ساتھ محشور فرمائے، ان کی جملہ دینی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل و اجر عظیم عطا فرمائے

مومنین سے سورہ فاتحہ اور نماز وحشت قبر کی گزارش ہے

نور الله مضجعه و عطر الله مرقده

سید شمشاد علی کٹوکھری
خادم ادارئہ دارالعترت - قم مقدسہ / ایران

۱۱ ربیع الثانی ۱۴۴۸

subscribe us on youtube

Comment

Previous Post Next Post