roman urdu me padhne ke liae click here
سوال از : ...
سلام علیکم
میری شادی کو تقریباً دو ماہ گزر چکے تھے۔
دو ماہ کے بعد، میں اپنی بیوی سے نفرت کرتا تھا اور اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتا تھا، اس لیئے میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاؤ کیونکہ میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔
وہ اپنے والدین کے گھر چلی گئی اور میرا اس سے دو سال سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
میرے وکیل نے میری بیوی سے کوئی بات چیت کیئے بغیر (ہم آہنگی کے بغیر) طلاق بائن کا صیغہ جاری کر دیا، لیکن یہ نہیں معلوم کہ وکیل نے طلاق خلع کا صیغہ جاری کیا ہے یا طلاق مبارات کا صیغہ جاری کیا ہے
اس کے پیش نظر کیا طلاق واقع (منعقد) ہوئی ہے یا نہیں؟
اگر طلاق واقع نہیں ہوئی ہے تو میرے وکیل کو شرعی طلاق کے لئے کیا اقدامات کرنے چاہئیں ؟ اور وہ کونسا صیغہ جاری کرے؟
ضمنا عرض ہے کہ مہر ادا کر دیا گیا ہے
جواب :
علیکم السلام و رحمت اللہ
یاصاحب الزمان ادرکنا
”یہ طلاق باطل ہے لیکن جائز نہیں تم اس عورت کو معلق رکھے ہوئے ہو (بیوی کو معلق بنا کر میکے میں چھوڑے رکھنا جائز نہیں ہے)۔ تم اسے طلاق دے دو، طلاق رجعی
(استفتاء از ایت اللہ سیستانی)
“
8 / رجب /1447
بمطابق 29 / 12 / 2025
سید شمشاد علی کٹوکھری
خادم ادارئہ دار العترت
شعبئہ سوالات قم / ایران
طلاق کے متعلق مزید معلومات کے لیئے سائٹ پر "طلاق" کا شعبہ دیکھ لیں