Rasule khoda aur Maasumin ki taarikhe welaadat wa shahaadat me aekhtelaaf ke aham asbaab keya hain ?
×

کربلا میں حضرت سکینہ (سلام الله عليها) کی عمر | محل دفن اور مرثیہ و شادی

roman urdu me padhne ke liae click here


سوال از : محترم جناب صادق روشن علی صاحب (کونگو ساؤتھ آفریقا)


سلام علیکم


آپ کی ایک ویڈیو میں نے دیکھی جس میں جناب رقیہ (س) کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کی عمر تین یا چار سال کی تھی
میرا سوال یہ ہے کہ جناب سکینہ (س) کی کربلا میں کیا عمر تھی ؟ اور جناب سکینہ کہاں مدفون ہیں ؟


اور کیوں لوگ جب بھی مصائب بیان کرتے ہیں تو چار سال کی عمر جناب سکینہ (س) کی بتاتے ہیں ، جناب رقیہ (س) کا نام کیوں نہیں لیتے ؟


شکریہ


جواب :


باسمه تعالی
یا صاحب الزمان ادرکنا
علیکم السلام و رحمة الله و برکاته


جی ، وه ویڈیو تقریبا چھہ سال پرانی ہے


حضرت سکینہ (سلام الله علیها) کی تاریخ ولادت مکمل طور پر واضح اور روشن نہیں ہے


مشہور قول کے مطابق اور اکثر مورخین کے نزدیک آپ کی ولادت باسعادت 47 ہجری قمری میں ہوئی


حوالہ :


السیده سکینة ابنة الامام الشھید ابی عبدالله الحسین - صفحہ 141 - تالیف سید عبدالرزاق مُقَرَّم


بظاہر سال اور تاریخ وفات میں اختلاف نہیں یے تقریبا تمام مورخین نے لکھا ہے کہ بروز جمعرات پانچ ربیع الاول 117ھ.ق میں آپ کا انتقال ہوا


حوالہ :


  1. سفينة البحار - جلد 4 - ص 213 - تاليف شيخ عباس قمى (شیعہ کتاب)

  2. تاريخ مدينة و دمشق - جلد 69 - ص 218 - تاليف ابن عَساکِر (سنی کتاب)

نتیجہ :


مشہور قول کے مطابق ولادت کا سال 47 ھ.ق ہے اور کربلا کا واقعہ 61 ھ.ق میں رونما ہوا ، اس اعتبار سے سنہ 61 ھ.ق کربلا میں آپ کی عمر تقریبا 14 سال تھی ، 47 ھ.ق سے لیکر 61 ھ.ق تک تقریبا 14 سال ہوئے


واضح رہے کہ 47 ھ.ق سے 117 ھ.ق تک جوڑیں تو وفات کے وقت آپ کی عمر تقریبا 70 سال تھی


دوسرے یہ کہ آپ کی وفات 117 ہجری قمری میں ہوئی اور 70 سال کی عمر میں انتقال فرمایا ، اس لحاظ سے بھی آپ کی ولادت 47 ھ.ق میں ہوئی ، نتیجتا کربلا میں آپ کی عمر 14 سال تھی


قرائن اور شواہد اس بات کے غماز ہیں کہ حضرت سکینہ (سلام الله علیها) کربلا میں کم سن بچی نہیں تھیں بلکہ بالغہ اور رشیدہ تھیں ، مثال کے طور پر صرف دو شواہد پیش کر رہے ہیں :


  1. معتبر تاریخی مراجع و مصادر میں ہے کہ امام حسین (علیه السلام) نے آپ کی شادی اپنے بھتیجے یعنی عبدالله بن حسن (علیهما السلام) سے کی تھی

  2. حوالہ :


    اِعلامُ الوَری بِاَعلام الھْدی - جلد 1 - ص 418 - تالیف شیخ طبرسی


    یاد رہے کہ امام حسن (علیه السلام) کے ایک فرزند کا نام عبدالله اکبر اور دوسرے کا نام عبدالله اصغر (سلام الله علیهما) تها ، دونوں کربلا میں شہید ہوئے ، حضرت سکینہ (سلام الله علیها) کی شادی عبدالله اکبر سے ہوئی تھی ، یہ عبدالله اصغر سے بڑے تھے


    البتہ آپ دوشیزه ہی تھیں کہ شوہر شہید ہو گئے


    حوالہ :


    اَلمُحَبَّر - ص 438 - تالیف محمد بن حبیب بغدادی


    واقعئہ کربلا کے پہلے بالغہ اور رشیده تھیں تبھی تو امام حسین (علیه السلام) نے شادی کر دی تھی


  3. کربلا میں جب امام حسین (علیه السلام) رخصت آخر کے لئے آئے تو سب کا نام لے کر کہا " تم پر میرا سلام ہو "

  4. خواتین اور بچیوں نے جب امام (علیه السلام) کی آواز سنی تو ان کی گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہو گئیں ، حضرت سکینہ (سلام الله علیھا) بھی فراق پدر میں گریہ کر رہی تھیں ، سکینہ سے امام (علیه السلام) کو بہت محبت تھی ، سینے سے لگایا اور دونوں آنکهوں کے درمیانی حصہ کا بوسہ لیا اور آنسو صاف کر کے یہ اشعار کہے :


    سَيَطُولُ بَعْدِي يَا سَکِيْنَةُ فَاعْلَمِي
    مِنْكِ اَلْبُكَاءُ إِذَا اَلْحِمَامُ دِهَانِي


    لاَ تُحْرِقِي قَلْبِي بِدَمْعِكِ حَسْرَةً
    مَا دَامَ مِنِّي اَلرُّوحُ فِي جُثْمَانِي


    وَ إِذَا قُتِلْتُ فَأَنْتِ أَوْلَى بِالَّذِي
    تَأْتِينَهُ يَا خَيْرَةَ اَلنِّسْوَانِ


    ترجمہ و مفہوم :


    اے سکینہ جان لو کہ میرے بعد
    تمہارا گریہ طویل عرصے تک ہوگا


    جب مجھے موت آجائے تو رونا
    جب تک میرے جسم میں جان ہے


    اپنے اشک حسرت و افسوس سے میرا دل و جگر کباب نہ کرو
    اے عورتوں میں بہترین خاتون ، جب میں شہید ہو جاؤں گا تو تم سب سے زیاده سزاوار و مناسب رہو گی کہ میرے سرہانے آؤ (اور میرے سوگ میں بیٹھو)


    حوالہ :


    1. یَنَابِیعُ المَوَدَّة - جلد 2 - ص 171 و 172 - باب 61 - تالیف سُلیمان بن ابراہیم قُندوزی (سنی کتاب)

    2. مَنَاقِبِ آلِ اَبی طالب - جلد 4 - ص 109 و 110 - تالیف ابو جعفر محمد بن علی المعروف بہ ابن شھر آشُوب (شیعہ کتاب)

ملاحظہ فرمایا کہ امام حسین (علیه السلام) نے حضرت سکینہ (سلام الله علیھا) کو " خَیرَةُ النِسوَان " (عورتوں میں بہترین خاتون) کہہ کر خطاب کیا . عربی زبان کی لغت میں عام طور پر لفظ " نساء / نسوان " بالغہ عورتوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ، کم عمر لڑکیوں کے لئے یہ لفظ رائج نہیں ہے


یہ بھی ایک شاہد ہے کہ حضرت سکینہ (سلام الله علیھا) کربلا میں بالغہ و رشیده تھیں


ہمارے درمیان مشہور ہے کہ آپ کربلا میں کم سن بچی تھیں ، مذکوره بالا بیان کے پیش نظر میرے لئے یہ قبول کرنا بہت مشکل و دشوار ہے


جو بچی کم سن تھی وه حضرت رقیہ (سلام الله علیھا) تھیں (ویڈیو میں تفصیل بتا دی گئی ہے)


جناب سکینہ (سلام الله علیها) کہاں مدفون ہیں ؟


محل دفن میں بھی اختلاف ہے ، بعض کہتے ہیں مصر میں مدفون ہیں اور بعض کہتے ہیں سوریہ / دمشق میں دفن ہیں


لیکن مشہور و معروف شیعہ عالم دین " علامہ سید محسن امین " نے اپنی مشہور و معروف کتاب " اَعیَانُ الشِّیعة " کی جلد 3 ، ص 492 پر لکھا ہے :


دمشق میں واقع مقبره " باب الصغیر " میں جو قبر حضرت سکینہ (سلام الله علیھا) کی طرف منسوب ہے وه صحیح نہیں ہے اس لئے کہ اہل تاریخ کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ حضرت سکینہ (سلام الله علیها) مدینہ (جنت البقیع) میں مدفون ہیں


دمشق میں جو جگہ قبر سکینہ کے نام سے ہے وہاں شام کے کسی بادشاه کی بیٹی مدفون ہے ، اس لئے کہ قبر پر جو صندوق ہے اس پر خط کوفی میں لکھا ہے " سکینة بِنتُ المَلِك " (سکینہ بادشاه کی بیٹی) ...


بعض دوسرے علماء و محققین جیسے شیخ عباس قمی نے اسی نظریہ کی تائید کی ہے کہ دمشق میں جو قبر ہے وه بادشاہوں کی لڑکیوں میں سے کسی ایک لڑکی کی قبر ہے ۔ حضرت سکینہ (سلام الله علیها) کا انتقال مدینہ میں ہوا اور وہیں (جنت البقیع میں) مدفون ہیں


حوالہ :


  1. اعیان الشیعة - جلد 3 - ص 492

  2. سفینة البحار - جلد 4 - ص 213 - تالیف شیخ عباس قمی (صاحب مفاتیح الجنان)

کیوں لوگ جناب سکینہ (سلام الله علیھا) کی عمر چار سال بتاتے ہیں اور جناب رقیہ (سلام الله علیھا) کا نام نہیں لیتے ؟


یہ سوال آپ ان ذاکره اور ذاکرین سے کریں جو چار سال عمر بتاتے ہیں اور جناب رقیہ کا نام نہیں لیتے


تبصره :


شروع میں عرض کیا کہ حضرت سکینہ (سلام الله علیھا) کی شادی آپ کے چچیرے بھائی جناب عبدالله بن حسن (سلام الله علیھم) سے ہوئی


کربلا میں آپ کی شہادت کے بعد حضرت سکینہ (سلام الله علیھا) نے تا حیات دوسری شادی نہیں کی


شیعہ مورخین اور علمائے رجال کا یہی ماننا ہے ، لیکن بعض سنی مورخین اور محدثین کہتے ہیں عبدالله بن حسن کی شہادت کے بعد متعدد شادیاں کیں ، " مُصعَب بن زُبَیر " (لعنة الله علیه) سے بھی کی (جن لوگوں نے مختار نامہ سریل دیکھی ہوگی اس پلید شخص کے بارے میں اجمالا جانتے ہونگے)


افسوس کا مقام یہ ہے کہ کثرت ازدواج کا افسانہ بعض شیعہ کتابوں کے صفحات میں بھی پہنچے


بعض شیعہ علماء بنو امیہ کے حکم پر درباری علماء ، محدثین اور بنام مسلمان ، غیر مسلم سے لکھوائی گئی حدیث اور تاریخ کی کتابوں سے متأثر ہوکر " مصعب بن زبیر " (لعنة الله علیه) سے شادی کی بیجا تاویل و توجیہ بھی کرتے ہیں (جو زنده ہیں خدا انہیں ہدایت دے اور جن کا انتقال ہو گیا ہے ان کی مغفرت کرے)


مصعب بن زبیر (لعنة الله علیه) و غیره سے حضرت سکینہ (سلام الله علیھا) کے عقد کا افسانہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح جناب ام کلثوم بنت فاطمہ (علیھما السلام) کا عقد عمر بن خطاب سے



نیچے دی گئی سرخی دبا کر جواب کا پڑھنا مفید ہے انشاءالله


  1. Kis ketaab me likha hai ke Hazrat Sakina (s.a) ki qabr zindaane shaam me hai ?

  2. Iran | Iraq | Hindustaan me janaab Sakina ki majlis kab hoti hai ? | taarikh-e-shahaadat

والسلام

سید شمشاد علی کٹوکهری
خادم اداره دارالعترت عظیم آباد / پٹنہ - شعبئہ سوالات قم / ایران


13 / صفر / 1444 ھ.ق


( رومن اردو سے اردو رسم الخط میں تبدیل )

subscribe us on youtube

3 Comments

Comment

  1. اعلی مضمون ھے۔انسکلوپیڈیا امام حسین علیہ السلام محمد محمدی رے شہری نے بھی یہی لکھا ہے

    ReplyDelete
  2. آپ نے صرف امام حسن علیہ السلام کے دو بیٹے بتائے جب کہ قاسم علیہ السلام حسن مسنہ کہاں گئے آپ بلکل غلط بیانی کررہے ہو

    ReplyDelete
Previous Post Next Post