roman urdu me padhne ke liae click here
بسم الله الرحمن الرحیم
ياصاحب الزمان ادرکنا
سید ابن طاؤس وغیره نے بیان کیا ہے کہ محمد بن ذَکوان جو کہ سجاد (بہت زیاده سجده کرنے والے) سے معروف ہیں سجدے کرتے ہوئے اتنا زیاده روئے کہ نابینا ہو گئے، ان سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق (علیه السلام) سے عرض کیا کہ :
میں آپ پر قربان جاؤں، ماه رجب ہے، اس مہینے میں مجھے ایسی دعا کی تعلیم دیجیئے جس کے ذریعے سے خدا مجھ کو نفع اور فائده پہنچائے. تو آپ نے فرمایا :
ماه رجب کے ہر روز و شب اور شب و روز کی اپنی ہر نمازوں کے بعد اس دعا کو پڑھو :
" يَا مَنْ أَرْجُوهُ لِكُلِّ خَيْرٍ، وَآمَنُ سَخَطَهُ عِنْدَ كُلِّ شَرٍّ، يَا مَنْ يُعْطِى الْكَثِيرَ بِالْقَلِيلِ، يَا مَنْ يُعْطِى مَنْ سَأَلَهُ، يَا مَنْ يُعْطِى مَنْ لَمْ يَسْأَلْهُ وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْهُ تَحَنُّناً مِنْهُ وَرَحْمَةً، أَعْطِنِى بِمَسْأَلَتِى إِيَّاكَ جَمِيعَ خَيْرِ الدُّنْيا وَجَمِيعَ خَيْرِ الْآخِرَةِ، وَاصْرِفْ عَنِّى بِمَسْأَلَتِى إِيَّاكَ جَمِيعَ شَرِّ الدُّنْيا وَشَرِّ الْآخِرَةِ، فَإِنَّهُ غَيْرُ مَنْقُوصٍ مَا أَعْطَيْتَ، وَزِدْنِى مِنْ فَضْلِكَ يَا كَرِيمُ "
ترجمہ و مفہوم :
" اے وه (خدا) جس سے میں ہر بھلائی کی امید رکھتا ہوں اور ہر برائی کے وقت اس کے غضب سے بچنا چاہتا ہوں، اے وه (خدا) جو کم کے برابر زیاده عطا کرتا ہے، اے وه (خدا) جو بھی تجھ سے مانگتا ہے عطا کرتا ہے، اے وه (خدا) جو تجھ سے نہیں مانگتا اور تجھ کو نہیں پہچانتا اسے بھی اپنی مہربانی اور رحمت کے واسطے عطا کرتا ہے، میں نے تجھ سے جو کچھ بھی درخواست کی ہے اس کے سبب دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں اور اچھائیاں مجھے عطا فرما اور میں نے تجھ سے جو کچھ بھی درخواست کی ہے اس کی وجہ سے مجھ سے دنیا اور آخرت کی تمام برائیاں دور کر دے کیونکہ جو کچھ تو نے عطا کیا اس میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے اور اے کریم اپنے فضل سے مجھے اور زیاده عطا کر (یا) مجھے زیاده کر (یعنی میرے وجود کو بزرگ اور کشاده کر) "
راوی کہتا ہے :
پھر امام (علیه السلام) نے اپنا بایاں ہاتھ اٹھایا اور اس ہاتھ کی مٹھی سے اپنی داڑھی پکڑی اور شہادت کی انگلی (داہنے ہاتھ کی وه انگلی جو انگوٹھے کے پاس ہوتی ہے) کو حرکت دیتے ہوئے خدا کی پناه لیتے ہوئے (اور گریہ و زاری کے ساتھ) مذکوره بالا دعا (یعنی یَا مَن اَرجُوهُ لِکُلِّ خَیر ...) پڑھی اور پھر اس دعا کا درج ذیل آخری جملہ پڑها :
" يَا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ، يَا ذَا النَّعْماءِ وَالْجُودِ، يَا ذَا الْمَنِّ وَالطَّوْلِ، حَرِّمْ شَيْبَتِي عَلَى النَّارِ "
" اے صاحب عظمت و عزت و صاحب انعام و اکرام اور اے نعمتوں اور جود والے اور اے احسان و بخشش کرنے والے، میری داڑھی کے سفید بالوں پر جہنم کی آگ حرام فرما دے "
دوسری حدیث میں ہے :
پھر امام (علیه السلام) نے اپنا ہاتھ اپنی داڑھی پر رکھا اور اس وقت تک نہیں ہٹایا جب تک کہ آپ کے ہاتھ کی پشت آنسوؤں سے تر بتر نہ ہوگئی
(اقبال الاعمال - جلد 2 - صفحہ 644 - تالیف سید بن طاؤس)
یہاں چند ایک باتوں کی وضاحت کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے :
- امام صادق (علیه السلام) نے فرمایا : اس دعا کو ہر روز و شب اور رات و دن کی اپنی ہر نمازوں (واجب یا مستحب) کے بعد پڑھو
اس سے اس دعا کی اہمیت اور فضیلت معلوم ہوتی ہے - دعا پڑھتے وقت داڑھی پکڑنے اور شہادت کی انگلی ہلانے کا صحیح طریقہ اور وقت :
- داڑھی یا ٹھڈی پکڑنے اور دائیں و بائیں شہادت کی انگلی کو حرکت دینے کی حکمت :
مومنین میں رواج و معمول ہے کہ " يَا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ، يَا ذَا النَّعْماءِ وَالْجُودِ، يَا ذَا الْمَنِّ وَالطَّوْلِ، حَرِّمْ شَيْبَتِي عَلَى النَّارِ " پڑھتے وقت داڑھی پکڑتے ہیں اور شہادت کی انگلی کو حرکت دیتے ہیں
مذکوره روایت کے متن و عبارت سے اس طریقے اور انداز کا استفاده نہیں ہوتا ہے بلکہ روایت کے متن سے استفاده ہوتا ہے کہ امام صادق (علیه السلام) نے دعا کے اول (یعنی یَا مَن اَرجُوهُ ...) سے آخر ( یعنی یَا ذَالجَلالِ وَ الاِکرَام ...) تک گریہ و زاری کے ساتھ اپنے بائیں ہاتھ کی مٹھی سے اپنی مبارک داڑھی پکڑے رہے اور شہادت کی انگلی کو حرکت دیتے رہے
لہذا مومنین اور مومنات کے لئے بہتر ہے کہ اس دعا کو اس طرح پڑهیں جس طرح امام صادق (علیه السلام) نے پڑھا یعنی اس عمل کو ابتدائے دعا سے آخر تک انجام دیں
مذکوره اور دوسری روایات سے استفاده ہوتا ہے کہ داڑھی یا ٹھڈی پکڑنا اور شہادت کی انگلی کو حرکت دینا دعا کے آداب میں سے ہے، امام صادق (علیه السلام) نے ایسا کیا لہذا ہم بھی ویسا ہی کرتے ہیں
البتہ اس عمل کی حکمت و علت شاید یہ ہو کہ یہ عمل گریہ و زاری اور عاجزی و انکساری کی علامت و نشانی ہے
وَاللهُ عالِم
نیچے دیۓ گئے جواب کا پڑھنا مفید ہے انشاءالله
والسلام
سید شمشاد علی کٹوکهری
خادم اداره دارالعترت قم / ایران
8 / رجب / 1444 ھ.ق



No comments:
Comment