Jashn-E-Mauludain
×

سفیہ کسے کہتے ہیں ؟ اس کے معاملات کا شرعی حکم

roman urdu me padhne ke liae click here


سوال از : محترم جناب گلزار احمد صاحب / کشمیر

شرعا کس حد تک کمزور عقل یا کم فہم شخص کے ساتھ زمین ،جائیداد یا مالی معاملہ کرنا درست ہے ؟ نیز اگر کوئی شخص بعض معاملات سمجھ لیتا ہو لیکن مکمل سمجھ بوجھ نہ رکھتا ہو تو اس کے ساتھ خرید و فروخت یا جائیداد کا سودا معتبر ہوگا یا نہیں ؟ اور اس کی پہچان کا شرعی معیار کیا ہے ؟

جواب :

باسمہ تعالی
یاصاحب الزمان ادرکنا
سلام علیکم

آسان اور مختصر وضاحت کے ساتھ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں :

سفیہ سے مراد :

سفیہ وہ ہے جو زندگی کے مختلف شعبوں میں ضروری شعور اور فکری بالیدگی تک نہ پہنچا ہو، اپنے اموال کی حفاظت کرنے سے قاصر ہو اور آسانی سے دھوکہ کھاجاتا ہو

دوسرے لفظوں میں :

فقہی نقطئہ نظر سے سفیہ (غیر رشید) وہ ہے جو عقل معاش (معاشی معاملات کی سوجھ بوجھ، اقتصادی مسائل کے شعور، زندگی بسر کرنے کی سوجھ بوجھ اور دنیوی یا اقتصادی امور کے درک) سے محروم ہو اس کے نتیجے میں وہ اپنے اموال و جائیداد کو غلط مقاصد کے لئے خرچ کرتا ہے اور اسے ضائع کرتا ہے
لفظ سفیہ کا مخالف رشید ہے

سفیہ کا فقہی حکم :

سفیہ کو شرعا محجور قرار دیا گیا ہے یعنی اسے اپنے اموال میں تصرف کرنے سے منع کیا گیا ہے
سفیہ کا اپنے اموال میں تصرف صحیح نہیں خواہ مرد ہو یا عورت لہذا اس کی خرید و فروخت اور دوسرے معاملات جیسے کرایہ، قرض، عاریہ اور وقف وغیرہ اپنے اموال میں درست نہیں البتہ شرعی ولی (جیسے باپ، دادا اور حاکم شرع) کی اجازت سے صحیح ہے

سفیہ کی پہچان کا معیار :

ضروری فکری شعور اور ذہنی نشو ونما کے مراتب و مراحل ہیں جو افراد میں مختلف ہوتے ہیں لہذا اس کا طے شدہ کوئی خاص معیار نہیں ہے
اس مسئلے میں ہمیں لامحالہ دیکھنا ہوگا کہ عرف میں کس حد تک سفاہت کو اپنے اموال کا انتظام اور زندگی کی مدیریت کرنے میں قاصر سمجھا جاتا ہے اسی اعتبار سے اپنے اموال میں سفیہ کا معاملہ باطل ہوگا یا نافذ و معتبر
واضح رہے کہ سفیہ وہ ہے جو اپنے اموال میں زیادہ تر غیر عاقلانہ و غیر دانشمندانہ تصرفات کرتا ہے، بیہودہ کاموں میں اپنے اموال اڑاتا ہے، اس کا معاملہ باطل ہے نافذ نہیں ہے اور اگر کوئی شخص اپنی جائیداد و اموال میں کبھی کبھار غیر دانشمندانہ تصرف کرتا ہے یا اپنے معاملات (لین دین) میں بہت کم دھوکہ کھا جاتا ہے تو اسے غیر رشید (سفیہ) سفیہ نہیں سمجھا جاتا اس کا معاملہ نافذ اور معتبر ہے

والسلام
سید شمشادعلی کٹوکھری
خادم ادارئہ "دارالعترت"
شعبئہ سوالات قم / ایران

18 / ذی الحجہ / 1447ھ.ق

روز عیدالله اکبر، عید آل محمد (صلوات اللہ علیہم) یعنی عید غدیر

رومن اردو سے اردو رسم الخط میں تبدیل

Comment

Previous Post Next Post