roman urdu me padhne ke liae click here
سوال از : محترم جناب تنویر علی صاحب / دہلی
سلام
سن سیٹ اور مغرب کی اذان ہونے سے پہلے کے دوران اگر ظہرین کی نماز کسی وجہ سے نہیں پڑھ پائے تو پڑھ سکتے ہیں؟
آیت اللہ خامنہ ای صاحب کے مطابق؟
جزاک اللہ خیرا
التماس دعا
جواب :
باسمه تعالى
ياصاحب الزمان ادركنا
عليكم السلام و رحمةالله و بركاته
آیت اللہ خامنہ ای کے نزدیک عصر کی نماز کا وقت غروب آفتاب تک رہتا ہے.
غروب آفتاب کے بعد (مغرب کا وقت داخل ہوتے ہی) نماز عصر کا وقت ختم ہو جاتا ہے لہذا اگر غروب آفتاب سے پہلے نماز ظہر اور عصر نہیں پڑھی تو ضروری ہے کہ قضا کی نیت سے پڑھیں.
واضح رہے کہ اگر کسی نے غروب آفتاب تک نماز ظہر اور عصر نہیں پڑھی ہے تو غروب آفتاب اور اذان مغرب کے درمیان دونوں نماز کو پڑھے البتہ "ما فی الذمہ" (جو میرے ذمے ہے) کی نیت سے پڑھے یعنی ادا اور قضا کی نیت کئے بغیر پڑھے، دونوں نماز صحیح ہے.
تبصرہ :
مثلا غروب آفتاب اور اذان مغرب کے درمیان تقریبا دس سے پندرہ منٹ کا فاصلہ ہے تو دس سے پندرہ منٹ کے فاصلے کے اندر ادا اور قضا کی نیت کئے بغیر پڑھیں تو نماز صحیح ہے.
حقیقت میں ادا ہوں گی تو وہ نمازیں ادا شمار ہوں گی اور اگر قضا ہوں گی تو وہ نمازیں قضا شمار ہوں گی.
دی گئی سرخی دبا کر جواب کا پڑھنا مفید ہے ان شاءالله
والسلام
سید شمشاد علی کٹوکھری
خادم ادارئہ "دارالعترت" عظیم آباد / پٹنہ - شعبئہ سوالات قم / ایران
16 / صفر / 1447ھ.ق
رومن اردو سے اردو رسم الخط میں تبدیل
No comments:
Comment