roman urdu me padhne ke liae click here
یاصاحب الزمان ادرکنا
الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ
وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو کہتے ہیں بیشک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت بھی
شمعِ روشن بجھ گئی، بزمِ سخن ماتم میں ہے
دس ماہ رمضان 1447ھ.ق کی صبح، تاریخ انسانیت و عالم اور اسلام کی وہ المناک و بدترین و سیاہ ترین صبح تھی جس میں بدنام زمانہ و خوفناک جزائر " ایپسٹین " (شیطانی جنسی جزائر) کے جنسی جرائم کے مجرموں، خونخوار و اطفال خوار، انسانیت و بشریت کے جلادوں، شقی ترین اشقیا، منحوس و خبیث امریکی اور اسرائیلی حکام کی غیر اخلاقی، غیر اصولی، بزدلانہ، مجرمانہ اور مشترکہ جارحیت و حملوں میں خارجی و داخلی دشمنوں، خائنوں، منافقوں، اور احمقوں کی حماقت، خیانت، شرارت اور امریکہ و اسرائیل کے تلوے چاٹنے والی بنو امیہ کی ناجائز اولاد کی سازشوں کے تحت امت مسلمہ کے عظیم لیڈر، رہبرحکیم، رہبر انقلاب، مقتدائے ملت، سید جلیل و سلیل، اَحرار عَالم کے دلوں کی ڈھرکن، شہید ماہ رمضان حضرت آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) نے اپنی ایک بیٹی، شہیدہ بیٹی کی معصوم بچی (نواسی) اور موجودہ رہبر حضرت آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کی بیوی (رہبر شہید کی بہو) اور ایک داماد سمیت حالت روزے میں جام شہادت نوش کیا
دس ماہ رمضان کو ہی آپ کی جدہ ام المومنین حضرت خدیجہ (سلام اللہ علیہا) نے رحلت فرمائی اور اسی مہینے میں آپ کے جد امیر المومنین حضرت علی (سلام اللہ علیہ) کو بھی شہید کیا گیا
فخر روزگار، قائد شہید کی دل خراش و جانکاہی خبر شہادت پر شدید صدمہ ہوا، غم و اندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، افلاک رونے لگے، زمین اداس ہو گئی، فضا آنسو بہانے لگی، بولتا ہوا چمن خاموش ہو گیا، اِک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہو گئی
"شمع روشن بجھ گئی، بزم سخن ماتم میں ہے"
یہ مصیبت عظمی صرف ملت ایران کے لئے سنگین، دل شکن اور دردناک نہیں بلکہ تمام ملت کے لئے ہے، عالمگیر سوگ اور ہمہ گیر غم و اندوہ ہے اس لئے کہ رہبر شہید کی شہادت ایک فرد کی نہیں، ایک فرد فرید، لاثانی اور یکتائے دہر کی شہادت ہے، ایک فقیہ کی شہادت ہے، پورے عَالَم کی موت ہے، دین اسلام میں ایسا شگاف ہے جس کو کوئی چیز پر نہیں کرسکتی، جس کی کوئی تلافی نہیں
آپ کا ہم سے بچھڑ جانا ایک ایسا خسارہ و نقصان ہے جس کا کوئی مداوا نہیں، آپ کا جانا ایک ایسی کمی ہے جو مرتے دم تک اور زمانے بھر رہے گی
قائد شہید جیسی نابغئہ روزگار ہستی صدیوں میں ایک آدھ پیدا ہوتی ہیں
دنیا میں ایسے لوگ بہت کم پائے جاتے ہیں جو آپ جیسی شخصیت، جامعیت اور ہمہ گیری تک پہنچے ہوں
آپ علم و فضل اور تقوی کے بلند مقام پر فائز تھے، جامع الشرائط فقیہ، برجستہ ادیب، علم و عمل و شجاعت میں ممتاز، الہی عالِم، آگاہ، دشمن شناس اور سیاست دار و سیاست مدار تھے
وہ نہ صرف دینی علوم میں گہرائی تک اترے ہوئے تھے بلکہ سیاست میں ید طولی، عبور اور مہارت رکھتے تھے، وہ ہمہ جہت شخصیت تھے، آپ کی علوی و حسینی سیاست کا ایک عالَم مداح ہے
علم و ادب، فہم و فراست، علم دین اور سیاسی جدوجہد کے امتزاج والی شخصیات بہت کم ہوتی ہیں، سیاست کے میدان میں بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو ایک دل اور ایک ہی زبان رکھتے ہوں، بہت کم لوگ و ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیتی ہیں؛ رہبر شہید کا شمار ایسی ہی ہستیوں میں ہوتا ہے
موجودہ افسوس ناک دور میں آپ کا وجود رہنمائی کی متلاشی امت کے لئے مینارئہ نور کی حیثیت رکھتا تھا
اس کا اعتراف آپ کے مریدوں، موافقوں حتی مخالفوں کو بھی ہے، آپ کے دشمن بھی اس کے قائل ہیں
دنیا کے مکار، غدار اور فاسدترین و کثیف ترین دشمنوں سے مقابلہ کیا، ایٹمی طاقت کے آگے کوہ اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے رہے، بزدلوں کی طرح میدان چھوڑ کر بھاگے نہیں۔
امریکی غنڈوں کو منہ توڑ جواب دیا، وہ امریکہ جس کے خبیث و پلید اور ملعون وزیر خارجہ نے کہا :
ایران پر پابندیاں اس لئے ہیں کہ انسانیت کے نجات دہندہ امام مہدی (ارواحنا فداہ) کے ظہور کا مقابلہ کیاجائے
تمام تر سازشوں، خیانتوں، رکاوٹوں، صعوبتوں، دشمن کی شرارتوں، بزدلوں، مشکلوں اور ایران میں تجدُّد پسندی و روشن خیالی کے فتنوں کے باوجود خدا پر توکل، اس کی نصرت و حمایت اور اہل بیت (علیہم السلام) کے وسیلے سے دفاعی معاملات اور فوجی صلاحیت میں وسعت دینے کے علاوہ دیگر بہت سے امور میں ملک کو خود کفیل بنا دیا
بعض لوگ کہتے ہیں کہ پابندیاں ترقی کو روکتی ہیں لیکن امام عصر (عجل اللہ فرجہ الشریف) کے عظیم سپاہی رہبر شہید کی حکیمانہ پالیسیوں نے پیشرفت و ترقیوں کو جنم دیا دشمن کے سامنے جھکنا اور ڈرنا قائد شہید کی لغت میں نہیں تھا
اپنی حیات طیبہ اور تقریبا چاردہائی تک رہبری کے دوران تمام مراحل میں از ابتدا تا انتہا، آخری سانس تک علوی و حسینی شجاعت اور حکیمانہ بصیرت، مدیریت اور رویوں کی روشن مثال و مظہر تھے
وقت شہادت آپ اپنے تندرست ہاتھ کی مٹھی باندھے ہوئے تھے اس میں بھی دشمنوں کو واضح پیغام ہے کہ اگر میری قوم کی طرف کبھی میلی آنکھ سے دیکھا تو تمہارے غرور و گھمنڈ کے ساتھ تمہارا بیڑا غرق ہوجائے گا
یہ معروف جملہ و مصرعہ آپ پر بطور کامل صادق آتا ہے
«إِنَّ الْحَیاةَ عَقیدَةٌ وَجِهادٌ»
مفہوم : زندگی عقیدئہ توحید ہے اور دینی جہاد و تلاش و کوشش ہے
قائد شہید کی زندگی قابل فخر ہے اور شہادت قابل رشک ہے
حقیقی اسلام کی آبیاری ہمیشہ خون سے ہوتی ہے، تناور درخت، انقلاب کی آبیاری اپنے خون سے کی ہے جو خشک نہیں ہوگا
یہ راہِ اشخاص و افراد نہیں بلکہ راہ ایمان و جہاد ہے اس کا وجود افراد سے وابستہ نہیں
رہبرانقلاب اس بات کے قائل تھے کہ "فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں"
رہبر شہید کی شہادت پایان راہ نہیں بلکہ آغاز راہ ہے، ایک موج ہے جو ختم ہونے والی نہیں، آپ زندہ ہیں اس لئے کہ آپ کا مقصد زندہ ہے، آپ کی شہادت قوم کی حیات ہے
آپ کی نورانی راہ و سیرت متوقف نہیں ہوگی بلکہ آپ کے نقش قدم پر چلنے والوں، جاں نثاروں اور ملت شرافت، شجاعت، شہامت اور شہادت یعنی شیعیان حیدر کرار (علیہ السلام) کے ذریعہ جاری و ساری رہے گی، کشتی انقلاب رواں دواں رہے گی
درست ہے کہ دشمن قوی و طاقتور ہے، اس کے پاس مشہور و جدید دفاعی نظام جیسے آہنی گنبد (آئرن ڈوم) ہے لیکن آپ کے عقیدت مندوں، چاہنے والوں کے پاس معنوی گنبد (روحانی ڈوم) ہے، ایمان کی زبردست طاقت و قوت ہے
دنیا والوں نے دیکھ لیا کہ آپ کے چاہنے والوں نے آئرن ڈوم کو ناکام بنادیا بلکہ چھلنی کردیا
یقینا ملت کے عظیم الشان قائد کا سانحئہ شہادت ناقابل تلافی خسارہ اور بہت سخت ہے، ایسا زخم ہے جس کا مرہم نہیں صرف خدا کا لطف زخمی دلوں اور داغ غم فراق کا مرہم بن سکتا ہے اور خدا کا لطف ہی اس کی تلافی کر سکتا ہے لیکن تاریخ اسلام گواہ ہے کہ گلشن اسلام اور دین حق کی آبیاری معصوم بچیوں، بچوں، عورتوں، نوجوانوں، بزرگوں، بہادروں اور شہسواروں نے اپنے رنگین لہو و خون جگر سے کی ہے
رہبر شہید (رضوان اللہ تعالی علیہ) کی حیات میں نعرہ لگتا تھا
" جانم فدای رہبر " (میری جان رہبر پر فدا و قربان ہو) لیکن رہبر نے اپنی جان ملت پر فدا و قربان کردی
آپ نے سب کو راہ حق و صواب دکھائی لیکن کسی کو مجبور نہیں کیا
آپ ایک مردم ساز شخصیت تھے
بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے آپ کی یہ بھی مظلومیت ہے کہ شہادت کے دومہینے گزرچکے ہیں مگر تادم تحریر تدفین نہیں ہوئی، آپ مظلوم ہیں لیکن مقتدر مظلوم ہیں
معمار قوم رہبر شہید کی قربانیوں اور گراں قدر خدمات کو ہمیشہ احترام کی نظر سے دیکھا جائے گا اور یاد رکھا جائے گا
آپ کی دی ہوئی تعلیمات اور گزرے لمحوں کے نقوش ہمارے دلوں میں ہمیشہ تازہ رہیں گے
وقار ایسا کہ نظر نہ ہٹے اور سادگی ایسی کہ دل جیت لے
رہبر بننے کے بعد جب آپ پہلی مرتبہ قم مشرفہ تشریف لائے تو اپنے سہ روزہ قیام کے لئے مرکز انقلاب اور معروف مدرسہ " فیضیہ " کا انتخاب کیا، کسی ہوٹل وغیرہ میں قیام نہیں کیا
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت مدرسہ فیضیہ میں کوئی خاص سہولتیں نہیں تھیں؛ میں اس وقت اسی مدرسہ میں رہتا تھا
حقیقت یہ ہے کہ آپ جتنا مشہور ہیں اتنا پہچانے نہیں گئے
یہ مختصر سی داستان عہد حاضر کے اس عظیم مجاہد فی سبیل اللہ، محسن ملت، عبقری و قدآور شخصیت، عہدساز اور نابغئہ روزگار مفکر کی ہے جس نے ملت کو بچانے اور خوشنودی الہی میں شہادت کا جام نوش کیا اور ایسی اَن مِٹ داستان رقم کرگیا کہ جس پر نہ صرف یہ کہ ایرانی قوم فخر کرے گی بلکہ تمام آزادمنش اور منصف انسان رہتی دنیا تک فخر کریں گے
آخر میں فارسی شعروں کے دوالگ الگ بیت پر اپنی بات ختم کرتا ہوں جو میرے دل کی کیفیات اور جذبات کے عکاس و ترجمان ہیں :
آنچه خوبان همه دارند تو یکجا داری
بی سبب نیست، که درکُنج دلم جاداری
درد ما از هجر یوسف کمتر از یعقوب نیست
او پسر گم کرده بود و ما پدر گم کرده ایم
امام زمانہ (عجل اللہ فرجہ الشریف) اور تمام فقہاءعظام، مجتہدین کرام، علماءاسلام، حوزہ علمیہ، امت اسلامی و مومنین، شہید پرور ملت ایران، رہبر شہید کے مقلدین، سچے و مخلص مجاہدین، خاص طور پر قائد شہید کے تمام معزز خانوادے کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں اور رب العزت کی بارگاہ میں دست بستہ التجا ہے کہ ان سب کو صبر جمیل و جزیل اور اجر عظیم عنایت کرے اور نئے رہبر کو لمبی عمر عطا فرمائے اور اشرار کے شر سے محفوظ رکھے اور پناہ عالم، منجی عالم بشریت کے ظہور میں تعجیل فرمائے .
وَالسَّلَامُ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ جَاهَدَ وَیَوْمَ اسْتُشْهِدَ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا
سید شمشاد علی کٹوکھری
خادم ادارئہ " دار العترت " حوزہ علمیہ قم مقدسہ/ایران
12 / ذی القعدہ / 1447ھ.ق
بمطابق 30 / 4 / 2026